منڈگوڈ:27؍مارچ (ایس اؤ نیوز) روزانہ تین کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طئے کرتےہوئے اسکول ، کالج جانا ہوتاہے۔ شام کو جنگل کے راستے سے گزرتے ہوئے خوف محسوس ہوتاہے کہ کہیں کوئی جنگلی جانور نہ آجائے اور اسی گومگو کی حالت میں گھر پہنچ جاتے ہیں۔ اسکول ، کالج کو گئے ہوئے بچے شام ہوتے گھرپہنچنے میں تھوڑی بھی دیری ہوتی ہے تو والدین پریشان ہوکر راہ تکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ایسے حالات کسی اور علاقے کے نہیں بلکہ اترکنڑا ضلع منڈگوڈ تعلقہ کے چڈولی گرام پنچایت حدود کے بیانلی نامی مضاف کے ہیں جہاں گولی طبقے کے طلبا و طالبات پیدل اسکول جانے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پچھلےکئی برسوں سے بس کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے طلبا وطالبات روزانہ پیدل چل کر تعلیم حاصل کرنے جاتےہیں۔
شہر سے اندلگی ۔ ہنوماپور کے درمیان ایک بس دن میں تین مرتبہ گزرتی ہے۔ بیانلی مضاف سےقریب 20 طلبا وطالبات پیدل تین کلومیٹر کا راستہ طئے کرکےچوڈلی ّنامی دیہات پہنچتے ہیں اور وہاں بس کا انتظار کرتےہیں۔ پھر وہاں سےبس کے ذریعے اندلگی نامی دیہات پہنچ کر اسکول کی راہ لیتےہیں۔ اسی طرح کرگین کوپا نامی دیہات میں واقع لوئیلا اسکول کو بھی بیانلی مضاف سے طلبا جاتےہیں انہیں بھی بس کے لئے انتظار کرنے کی پریشانی جھیلنی پڑتی ہے۔
چوڈلی ، ملولی کے گاؤں میں زیادہ تعداد میں طلبا ہیں۔ بس یہاں پہنچنے سےپہلے ہی فُل ہوجاتی ہے۔ بیانلی مضاف کو لاک ڈاؤن سےپہلے کچھ دن بس آیا جایا کرتی تھی ۔اس کے بعد آنا بند ہوگیا ہے۔ کے ایس آرٹی سی کارپوریشن کے صدر وی ایس پاٹل نے بتایا کہ ہاویری ڈپو سے ایک زائد بس منگوا کر بیانلی مضاف کے طلبا و طالبات کا انتظام کئے جانےکی ہدایت دی گئی ہے۔
ایک طالبہ نے بتایا کہ گرمی کے دنوں میں کسی طرح تکلیف سہہ کر اسکول جاسکتےہیں۔ لیکن سب سے زیادہ پریشانی بارش کے موسم میں ہوتی ہے۔ اس نے کہا کہ ہمارے گاؤں میں اگر بس سروس شروع ہو جائےتو یہ ہم پر بہت بڑا احسان ہوگا۔